بھٹکل:11؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) مرکزی حکومت کے ترمیم کردہ ٹرافک قانون کے نفاذ کو لے کر محکمہ پولس اور آرٹی اؤ دفتر کے عملے کی سرگرمی سے دو، تین اور چارپہیہ سواروں کی جان پر بن آئی ہے۔ خاص کر بائک سواروں کے جان کے لالے پڑرہے ہیں ایسے میں گاہکوں کے بغیر ویران پڑےرہنے والے فضائی ماحولیاتی مرکزمیں کافی ہلچل نظر آرہی ہے۔ بائک سوار اپنی بائکس کی ہوائی آلودگی کی جانچ کے بعد ماحولیاتی سند لینے ایسے سینٹروں کے سامنے ہجوم کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔ منگل کو قومی شاہراہ 66پر فامکو کے پیچھے ماحولیاتی مرکز پر بائک سوار قطارو ں میں کھڑے رہتے ہوئے ہوائی آلودگی سے پاک امیشن ٹیسٹ کی سرٹی فیکٹ لیتے ہوئے دیکھے گئے۔
ابھی بھٹکل میں سواریوں کی جانچ ٹھیک سے شروع نہیں ہوئی ہے، کبھی کبھار کچھ گھنٹوں کے لئے شمس الدین سرکل اور جالی روڈ پر پولس والے جانچ کرتے نظر آتے ہیں، مگر ملک کے دیگر شہروں میں جس طرح کے جرمانہ عائد کرنے کے جو واقعات سامنے آرہے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے بھٹکل میں بھی سواروں میں خوف طاری ہے۔
بھٹکل میں امیشن ٹیسٹ کی سرٹی فیکٹ کے لئے فی الحال تین سینٹروں میں لوگوں کی بھیڑ دیکھی گئی ہے، ایک سینٹر نوائط کالونی فامکو کے پیچھے ، دوسرا شٹی گیریج کے قریب اور تیسرا عیدگاہ کے قریب ہے، مزید سینٹر بھی دیگر علاقوں میں ہوسکتے ہیں، اُس کی تفصیل فی الحال معلوم نہیں کی جاسکی۔ ایک سینٹر کے ذمہ دار سے پوچھے جانے پر اُس نے بتایا کہ آج منگل کو اُن کے سینٹر سے 240 بائک کے لئے سرٹی فیکٹ جاری کی گئی، کل پیر کو 220 سرٹی فیکٹ دئے گئے تھے، ان کے مطابق ٹریفک رول میں سختی برتنے کے ساتھ ہی ان کی دکان کے باہر بائکوں کی قطار لگ گئی ہے۔ ان کے مطابق یکم ستمبر سے پہلے زیادہ سے زیادہ پانچ بائک کے ٹیسٹ کرائے جاتے تھے، اب اس میں ز بردست اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت کے نئے ٹریفک قانو ن کے مطابق ہر ایک بائک سوار کے لئےہیلمٹ ، لائسنس، انشورنس،امیشن سرٹی فیکٹ جیسی ضروری دستاویزات کا ہونا لازمی ہے۔ اگر سواروں کے پاس ان میں سے ایک بھی نہیں ہوتی ہے تو ہزاروں روپئے کے چالان کی رسید ہاتھ میں تھما دی جائے گی۔ اسی خوف کے مارے بائک سوار اور سواری ڈرائیور اپنی اپنی سواریوں کی تجدید (اپڈیٹ)کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔
نئے ٹرافک قوانین کے مطابق جرمانہ میں کئی گنااضافہ کیاگیا ہے۔ یکم ستمبر سے جاری نئے قوانین کو لےکر ریاست بھر کے مختلف مقامات پر جہاں جرمانے کی وصولی حدوں کو پار کررہی ہے تو عوام اس سے کہیں زیادہ ناراض اور برہم بھی نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف پولس ٹرافک قوانین کے نفاذ کی کوشش میں سرگرم ہیں تو دوسری طرف انہیں عوام کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔